اتوار 1 فروری 2026 - 21:15
عصرِ انتظار سے عصرِ ظہور تک

حوزہ/تمام عالم بشریت ازل سے ایک منصور اعظم کا منتظر ہے؛ یہ انتظار انسانیت کا مشترکہ خواب ہے۔ ایک ایسا نجات دہندہ جو تمام انسانوں کو خدا کی نظر سے دیکھے، جس کے عادل وجود میں رحمت الٰہی کی شیرینی موجود ہو جس کی ناقابلِ شکست تلوار ذاتی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ تڑپتے اور سکتے انسانوں کے حقوق کے لیے نیام سے باہر آئے، جس کی شجاعت صبر کی سپر لیے دنیا کے ستم گروں کو للکارے۔

تحریر: پروفیسر سیدہ معصومہ شیرازی

حوزہ نیوز ایجنسی| تمام عالم بشریت ازل سے ایک منصور اعظم کا منتظر ہے؛ یہ انتظار انسانیت کا مشترکہ خواب ہے۔ ایک ایسا نجات دہندہ جو تمام انسانوں کو خدا کی نظر سے دیکھے، جس کے عادل وجود میں رحمت الٰہی کی شیرینی موجود ہو جس کی ناقابلِ شکست تلوار ذاتی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ تڑپتے اور سکتے انسانوں کے حقوق کے لیے نیام سے باہر آئے، جس کی شجاعت صبر کی سپر لیے دنیا کے ستم گروں کو للکارے؛ جس کا علم عالم خاکی سے عرش کی بے کرانی تک الہی اسرار کا امین ہو، جس کا پاکیزہ دل تمام انسانیت کے لیے دھڑکے، جو ایسا مہربان طبیب ہو جو انسانیت کے زخموں پر اپنی حکمت و دانائی کا مرہم رکھے، جو رحمت الٰہی کی کریم تجلی بن کر دکھی انسانیت کی پناہ گاہ بنے، جو دلوں کا محرم راز ہو جس کے ہونے کا احساس دل و نظر کو مہکا ئے رکھے۔۔ جو مشکل کشا، حاجت روا، مہربان کریم ،سخی، دریا دل ،صاحب کرم اور صاحب الزمان ہو ۔ازل سے انسان اس سلطان نصیر کا منتظر ہے جو وعدہ خدا کی صبح نور ہے۔ بےشک خدا کے ہاں انتظارحجت الہی کا سفر ہمیشہ سے جاری و ساری رہا ہے ۔وعدہ الہی میں ظہور عدل الہی، ظہور رحمت و عافیت، ظہور نعمت و ہدایت ایک ایسا عاشقانہ میدان ہے جہاں صاحبان یقین اپنے دل کی انکھ سے دیدار کا عرفان کشید کرتے ہیں اور قران بھی ایسے صاحبان یقین کو فلاح پانے والوں میں شمار کرتا ہے بشر کے لیے معرفت اور یقین کی سب سے اولین اور عظیم منزل غیبت الہی ہے اور قرب الہٰی کی نیت باندھ کر ملاقات الہی کا لطف کشید کرنے والے ایسے پیمان عشق میں بندھے ہیں جہاں نور الہی ان کو شرح صدر عطا کرتا ہے ۔اس مذہب عشق کے معشوق کا نعرہ ہے کہ اگر زمین و اسمان کے تمام حجاب برطرف کر دیے جائیں تو علی کے یقین میں کوئی نیا اضافہ ہونے والا نہیں ہے غیبت سنت الہی ہے۔۔ خدا اپنے نمائندوں کو اپنی سنتیں عطا کرتا ہے حضرت ادریس حضرت نوح حضرت صالح حضرت ابراہیم حضرت شعیب حضرت دانیال حضرت یوسف حضرت موسی حضرت خضر اور حضرت عیسی سمیت 26 نبوتوں کو صفت غیبت عطا کی گئی اور ان غیبتوں میں اہل شک کو اہل یقین کی صفوں سے جدا کر کے اپنے خاص بندوں کو فلاح و راستی کی بشارت عطا کی گئی الہی نمائندے غیبت بالفعل اور غیبت باالشخصیت کے ذریعے انسانی معرفت کی اڑانیں آزماتے رہے یہاں تک کہ اول ما خلق اللہ نوری کے مصداق محبوب الہی محمد مصطفی کو اربوں سال کے عاشقانہ انتظار کے بعد عالم ظہور میں لا کر 40 سال تک بالشخصیت غیبت عطا کی گئی شخص موجود تھا مگر شخصیت پردہ غیبت میں تھی سلام ہو ان صاحبان یقین پر جنہوں نے اعلان نبوت سے پہلے نور رسالت کا عرفان حاصل کیا اور ایمانی صاحبان یقین کہلائے۔۔ اس عالم خاکی میں کلیم الہی کا منصب پانے والے اولی العزم پیغمبر موسی ع کو بالفعل غیبت میں رکھا گیا مگر وائے ہو ان طالبان دنیا پر جنہوں نے عدل و انصاف کے داعی اور تزکیہ نفوس کا انقلاب لانے والا رہبر کو چھوڑ کر ہوائے دنیا کی طلب میں سامری کو اپنا ولی بنا لیا اور صحیفہ الٰہی کو نظرانداز کر کے جادو کی کتاب سے جڑے اور بچھڑے کو اپنا معبود مان لیا سامری ان دنیاوی خواہشات کو اپنے جادوئی دعووں کی بھینٹ چڑھا کر الہی نمائندے سے دور لے گیا اس وقت بھی بے شمار بندگان دنیا جنہوں نے حجت الہی کے نور سے منہ موڑ کر قران سے نظریں چرا کر جنتری کی تلاوت کو اپنا معمول بنا لیا ہے اور وقت کے سامری کو اپنا رہبر مان لیا ہے عریضے پر خواہشات دنیا کی طویل فہرست بھیج کر غائب امام کو ماننے والے حاضر امام سے گھبرانے والے وہ اہل دنیا ہیں جو مہدی موعود کا عقیدہ تو سینے سے لگائے ہوئے ہیں مگر مہدی موجود سے بے خبر ہیں ۔۔پانی میں نمک کی موجودگی فقط چکھنے والے کو محسوس ہوتی ہے دیکھنے والے کو نہیں!! اس لیے کاش ہم آپ کو دیکھ پاتے کا نعرہ عاشقانہ معرفت کا مزاج مانگتا ہے وگرنہ فقط دیکھنے والے تو عمر سعد اور عبیداللہ ابن زیاد بھی تھے۔۔۔۔جنہوں نے امام موجود کو دیکھا مگر ان کے مقام و مرتبے سے نا آشنا رہے لوگ حاجات دنیوی کے اسیر ہو جائیں تو وقت کے سامری موسی کی غیبت میں بندگان دنیا کو متبادل پرچم تھما کر متبادل کتاب دے کر متبادل خداؤں کی طرف ہانک دیتے ہیں مگر صاحبان یقین ہمیشہ اپنے اصلی پرچم یعنی پرچم ولایت سے جڑ کر اپنے ہدف یعنی بیداری فکر اور تزکیہ نفس کے ہدف پر پوری استقامت سے ڈٹے رہتے ہیں یہی وہ بندگان خاص ہیں جو وعدہ کیے گئے نجات دہندہ کی غیبت کو غیر حاضری پر محمول نہیں کرتے اور معرفت کی آنکھ سے اسے درک کرتے ہیں ۔۔کیا خوب فرمان معصوم ہے کہ تم ہم سے غافل ہو مگر ہم تم سے غافل نہیں ہیں ایک اور مقام پر فرمایا قائم کی موجودگی سورج کی طرح ہے جو بادلوں کی اوٹ میں ہے گویا منجی عالم کی موجودگی کا احساس صاحبان یقین کا میدان عشق ہے اور ظہور مہدی سارے الہی وعدوں کے پورے ہونے کا موسم ہے ظہور انتہا نہیں افتتاح ہے انجام نہیں آغاز ہے، اختتام نہیں۔

الٰہی نعمتوں کی ابتدا ہے کاش شیطان کی باخبری اور پل پل حاضر ہونے کا یقین رکھنے والے حجت الٰہی کے رحمانی طاقت کے حاضر و ناظر ہونے کا یقین پا لیتے!! غیبت حجت الہی ہماری تربیت تیاری اور آمادگی کا زمانہ ہے۔۔ مہدی موعود کا انتظار نظری انتظار نہیں بلکہ خدا کے وعدوں کا انتظار ہے انتظار ایک کیفیت مسلسل ہے جو انسانوں کو ہمہ وقت تیاری امادگی اور بے قراری عطا کرتی ہے زندگی کا لمحہ لمحہ انتظار کے چراغ کی لو بڑھاتا رہتا ہے حرارت عشق بڑھتی چلی جاتی ہے اور مومن اپنے مولا کی پسند و ناپسند میں ڈھلتا چلا جاتا ہے ۔۔۔۔امام کے چہرہ روشن کو دیکھ لینے کی خواہش سے پہلے یہ چاہو کہ مولا تمہیں دیکھیں!! حبیب جیسے عاشق بنو جسے وقت کا حسین خط لکھ کر نصرت کے لیے طلب کرے... یہ انتظار غلبہ ولایت کا انتظار ہے .الہی وعدوں کے طلوع ہونے کا انتظار !عدل و انصاف کے برپا ہونے کا انتظار !انتظار اچھے مستقبل کا انتظار!! ایک بشری خواب کی تعبیر کا انتظار!! جس دن ظلم و ستم کی کالی گھٹائیں برطرف ہوں گی سامراجی ستم شعار طاقتیں اپنے خونخوار پنجوں سے ٹپکتا لہو چاٹیں گی تنگ نظری ،تفرقے ،جدائیاں ،نسلی امتیاز اور ظلم و ستم کے تازیانے انسانیت کی پشت لہو لہان کرتے مادہ پرست فنا ہوں گے اور ایک عظیم نجات دہندہ اپنی عالمی حکومت کا حاکم ہوگا جو انسانی ہجوم کو خدا کی نظر رحمت سے دیکھے گا ظلم و ستم ،جرائم ،فکری و نظریاتی کم مائیگی انسانی سوچ کو ایک بھیانک سیاہ مستقبل کے ہولناک خواب دکھاتی ہے ایٹم بم کی ہولناک توانائی آبادیوں کو بھسم کرنے کا ڈراؤنا انجام دکھاتی ہے ۔انسانی معاشرے کو اپنے اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھاتے خونخوار درندے بارود کے جہنم سنبھالے ایٹمی جنگ کی چنگاریاں سلگاتے پھر رہے ہیں مگر اس اذ یت ناک صورتحال میں الہی وعدوں میں اس تیرہ و تاریک رات کے پیچھے امید کا سپیدہ سحر موجود ہے۔ یہ جان لیوا غم اور جہالت و فساد کے کڑکڑاتے جاڑے جلد عدل و انصاف کی سنہرے موسموں پر ساحل نجات کی نوید لانے والے ہیں اس حقیقت نورانی کا ثبوت ایک منطقی دلیل کی صورت تابندہ اور روشن ہے۔ پورا عالم بشریت ایک عالمی وسیع اور ہمہ گیر انتظار میں مصروف ہے جو صدیوں سے انسانی معاشروں میں سفر کر رہا ہے نبی اپنی اپنی قوموں کے لیے مبعوث ہوئے مگر ہر مذہب میں کسی نجات دھندہ کا تصور موجود ہے جو تمام عالم کو ایک ہمہ گیر منظم انقلاب میں شریک کر کے انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرے گا یہ ایک قدیم اور عالمگیر اعتقاد ہے جو انسانی فطرت کی گہرائیوں میں موجود ہے ارتقا کے سفر میں انسان رہن سہن خوراک اور علم و دانش کے میدان میں مسلسل رفعتوں کی طرف محو پرواز ہے ابن ادم اللہ کے خلق کردہ موجودات کو کشف کرتا چلا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ایک عظیم ارتقا اسے آگے آگے اور آگے بڑھاتا چلا جا رہا ہے فکری و نظریاتی ترقی کا یہ سفر انسان کو جلد ما دی ارتقا سے اخلاقی ارتقا کی طرف متوجہ کرنے والا ہے ایک ایسے معاشرے کا طلبگار بنانے والا ہے جہاں عدل و صلح کی چراغ روشن ہوں یہ بھی حقیقت ہے کہ مادی ترقی کے علاوہ انسان نے پتھر کے بتوں اور آگ کی پرستش سے نکل کر روشن خیال دانشوری سے خدا کو پانے کا سفر بھی جاری و ساری رکھا ہے اور آج کا انسان اپنے خدا تک رسائی کے لیے اپنے علم و دانش کے پر کھول چکا ہے اسی سفر کی موج ارتقا میں ہمیں ایک ترقی یافتہ معاشرے تک رسائی کی امید روشن نظر اتی ہے جہاں انصاف ۔عدل دوستی۔ اخوت اور وحدت کے چراغ روشن ہوں اس وقت دنیا بین المذاہب یک رنگی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے خواب تک پہنچ چکی ہے ۔۔ انسانی تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ تمام نظام عالم ایک خاص وحدت میں پرویا گیا ہے بدنظمی اور ہنگامہ ارائی ایٹم کو ایک طرف تباہی و بربادی کا نشان بناتی ہے تو دوسری طرف یہ ایٹم ایک پورے نظام شمسی کی شکل اختیار کر لیتا ہے ایک انسان جو اسی کل کا جزو ہے اسے بھی بالآخر اسی نظام تخلیق کی چوکھٹ پر سر جھکانا پڑے گا بشریت ارتقائی منازل طے کر کے ایک دن اسی متحد اور ایک نظام کے رنگ میں رنگی جائے گی اور ابن ادم خوب سمجھے گا کہ وہ اس متحد آفاقی نظام کا جزو اعظم ہے جو وحدت اور عدل پر مبنی ہے ہمیشہ شدید تباہی اور بربادی انسانی سوچ میں انقلاب برپا کرتی ہے۔۔ تمام انسانی انقلاب شدید گھٹن ۔مفاد پرستی اور جبر و تشدد کے بعد برپا ہوئے جنگوں کی تباہ کاریاں ظلم و ستم ناانصافی نسلی امتیاز اور تشدد کا شدید رد عمل ایک ایسی عالمی الجھن تشکیل دے گا جو معاشرے کو نئے نظام کا سنگ بنیاد رکھنے پر اکسائے گا دوسری جنگ عظیم کی دہشت ناک فضا کے بعد انسانی معاشرے میں ایسے فطری مطالبے نے زور پکڑا جہاں تمام انسانوں کو خدا کی نظر سے برابر دیکھا جائے۔۔عدل و انصاف کا ترازو مشرق و مغرب کے لیے برابر ہو اسی انسانی طلب کے نتیجے میں اقوام متحدہ کا وجود عمل میں آیا اگرچہ ایک عالمی نظام عدالت کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ۔۔ غارت گروں اور ستمگروں نے ویٹو پاور کے ناجائز استعمال سےپوری انسانیت کو کئی میدانوں میں نا امید کر دیا اقوام متحدہ کے ناقص وجود کے باوجود تمام عالم اس کے وجود کے حق میں ہے ۔۔عالمی عدالتی نظام کا یہ ادھورا خواب اور اس کی کمزور اور نامکمل تعبیر انسان کی فطری خواہش کا نتیجہ ہے خطرناک اسلحہ بنانے والے بھی تخفیف اسلحہ کے نعرے لگا کر انسانی معاشرے کی فطری تمناکو تسکین دیتے ہیں ۔ایک عالمی صلح و عدالت اور وحدت و یکجہتی کا تصور اپنی منزل کی طرف محو سفر ہے ۔مشترکہ منڈیاں اور عالمی تنظیمیں اسی خواب کی چند ادھوری تعبیریں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسوقت پوری دنیا انسانی معاشرے کو ایک ہی نظام کی طرف پلٹانے کی تمنا رکھتی ہے ۔بشر روز اول سے صلح اور عدل کا خواہاں ہے عدل اور امن سے عشق انسان کا مشترکہ عشق ہے اور یہ کیوں کر ممکن ہے کہ عاشق کے لیے معشوق موجود نہ ہو۔۔ پیاسا پانی کی طرف لپکتا ہے تو پانی کا وجود حقیقت میں ڈھلتا ہے اور ایک دن اسی طرح عدل سے عشق انسان کو اپنے معشوق کی طرف ضرور لائے گا اور پورے عالم پر عدل و انصاف کی حکمرانی ہوگی اور ظلم و تشدد کی بساط لپیٹ دی جائے گی عالمی نجات دہندہ کا خواب ایک عالمگیرخواب ہے جو مشرق و مغرب کے تمام ادیان و مذاہب میں موجود ہے زرتشتوں ،چینیوں ،مصریوں برہمنوں اور ہندوؤں کے علاوہ تورات زبور اور انجیل میں بھی ایک ایسے مصلح اعظم کی نوید موجود ہے جو تمام عالم کو وحدت فکر دے کر عدل و انصاف کے روشن موسم عطا کرے گا جس کا پرچم تمام انسانیت کے سروں پر لہرائے گا شرق و غرب جس کے پایہ تخت میں شمار ہوں گے تمام اعلیٰ ترین صفات کے ساتھ وہ منجی بشریت تمام انسانیت کو امن، محبت، عدل اور انصاف کی بشارت عطا کرے گا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کس اجتماعی خواب کی تعبیر روحانی و معنوی طاقت کے سائے میں پروان چڑھے گی یا مادی طور پر معاشرہ اس عظیم رہبر کے انقلاب عادلانہ کا ہم آواز بنے گا!! ہم جس قدر شدت سے چاہیں کہ اس تاریخی مرحلہ کے مسافر بنیں پھر بھی یہ آسان عمل نہیں ہے کیونکہ دنیا جہنمی طاقتوں کے حصار میں ہے ۔شیطانی طاقتیں اپنے مصنوعی صلح وعدل کے نعروں کے ساتھ میدان آزما رہی ہیں جبکہ امن کی تلاش میں انسانی معاشرہ عظیم ترین وعدے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے ایک عظیم عالمی تبدیلی کے لیے انتظار کا موسم انتہائی ثمرآور ہے جس میں انسان مسلسل جغرافیائی اور نسلی فرق مٹا کر قوم اور قبیلے کے تعصب چھوڑ کر بلند نظر ہوتا جا رہا ہے جس طرح سورج اور نسیم سحر پوری کائنات کے لیے لطف اور زندگی کا پیغام بنتی ہے اسی طرح انسانیت بھی اپنے خواب کی تعبیر کے لیے ہم آواز ہونے کا عزم کر رہی ہے اس وقت دنیا میں روشن خیال اور اہل دانش طبقے کے ہاں ایک عالمی وطن کا تصور زور پکڑ رہا ہے جہاں دنیا کو گلوبل ولیج بنانے کی تیاری عروج پر ہے تمام انسانیت ایک عالمی نظام عدالت کے لیے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایسے معجزے دکھا رہی ہے جہاں اس نظام کو دنیا کے کونے کونے میں رائج کرنا آسان ہو گیا ہے تمام دنیا پر مساوی کنٹرول تمام امور سے باخبر رہنے کے لیے انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرائع ایک عالمی حکومت کے برپا ہونے کے لیے انتہائی معاون اور مددگار ہیں گویا انسان ظہور عدل کے مقدمات دھیرے دھیرے مہیا کرتا چلا جا رہا ہے اور دنیا دم بدم قدم بقدم عصر ظہور سے قریب ہو رہی ہے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ انسان خود ظالم اور ستمگر ہو تباہیوں کا نمائندہ ہو تو بھلا کیسے اس کا انتظار کرے گا جسکی شمشیر کی خوراک ستم گروں کا خون ہے بداخلاق اور بد کردار شخص بھلا کہاں کسی اخلاقی انقلاب کا ہم آواز بن سکتا ہے !!انتظار کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ ایک ایسی تیاری کا عزم جہاں آزادی صلح اور عدل کی خواہشمند فوج میدان جہاد میں ان خرابیوں کو دور کرنے کا ذمہ اٹھائے.اور سپاہیوں کے دل میں ایسا شوق و ولولہ پیدا کرے جہاں دل اس عظیم تبدیلی کے لیے آمادہ و تیار ہو جائیں یہی حقیقی منتظر کا وظیفہ ہے کہ وہ انسانوں کی تربیت اور امادگی کے لیے دل و جان سے زور بازو ازمائے ۔ سماجی اصلاح کا یہ وظیفہ بڑے پیمانے پر ہونا چاہیے کیونکہ زمانہ اپنے خواب کی تعبیر کی طرف محو سفر ہے ایسے سماجی انقلاب کے لیے بلند کردار، بلند نظر اور صاحب فکر لوگوں کی ضرورت ہے جو پوری طرح آمادہ ،صاحب ہمت اور صاحب یقین ہوں ۔ یہی بامقصد انتظار ! انتظار کا حقیقی مفہوم ہے عالمی نجات دہندہ کی آمد کے لیے انتظام و اہتمام بھی عالمگیر سطح پر ہونا چاہیے اور بغیر تفریق ملت و مذہب سماج کی اخلاقی تربیت کے لیے میدان میں اترنے والے اس فطری اور عظیم خواب کے سچے ہم آواز ہیں ۔ایک عالمی نجات دہندہ کی نوید ایک زندہ وجاوید امید کا نام ہے دوسری طرف انسانی حقوق کے نام نہاد نمائندے انسانی معاشروں کو اپنے کھوکلے امن کے نعروں سے بہلاتے رہتے ہیں اور اسلحہ کے خوف سے برپا شدہ وقتی امن انسان کی بے چینی میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے تاریخ بشریت میں بے شمار رہنما اپنے لوگوں کی آزادی کے لیے آگے آئے مگر ان کے عمل میں انسانی حقوق کی پامالی بھی شامل رہی یہاں تک کہ کیمونسٹ انقلاب میں بھی لوگوں کو عدل و انصاف اور مساوات کے نعرے سے بے وقوف بنا کر نظام کو چند سخت گیر لوگوں کے ہاتھ میں دے کر عام انسانوں سے فکرونظر کا حق چھین لیا گیا ۔۔بے شمار ڈکٹیٹر اپنی مصنوعی اجارہ داری کے ذریعے طاقتور حکومت کے خواب دیکھتے رہے مگر فطرت اور قدرت نے انہیں بری طرح پچھاڑ دیا اسلامی فرقوں میں بھی ایک عظیم نجات دہندہ کا تصور یقینی ہے جو پیغمبر کے گھرانے سے ہوگا نام مہدی ہوگا یہاں تک کہ وہابی فرقہ بھی مہدی موعود کے منجی عالم ہونے کا یقین رکھتا ہے توحید کے بعد وجود مہدی ہے جو تمام ادیان و مذاہب اور تمام انسانیت کا مشترکہ عقیدہ اور خواب ہے۔۔ قرانی دعوے کی روشنی میں امام مہدی کا وجود لازمی اور ضروری ہے اگرچہ مسلمانوں کے بعض فرقے اس عظیم مصلح کی پیدائش کے قائل ہیں جبکہ اہل بیت کے پر حکمت بیانات کی روشنی میں امام غائب موجود ہیں اور عالم غیبت میں ہیں مگر ان کی ہدایت کا فیضان تمام دنیا سے منسلک اور جاری ہے بالکل اسی طرح جیسے تقریبا 26 انبیاء کو خدا نے طویل اور کم غیبتیں عطا کیں۔ ظہور نعمت و ہدایت انسانی شعور کے لیے راستے کا سنگ میل ہے کیونکہ ہر انقلاب سے پہلے اس کی واضح نشانیاں انقلاب کی آمد کا پتہ دیتی ہیں معاشرے میں شدت پسندی تشدد اخلاقی انحطاط انسانی حقوق کی پامالی اور ظلم و جور کا دباؤ حد سے بڑھے گا تو سماجی شعور ایک انقلابی دھماکے کا شکار ہوگا سنی و شیعہ روایات میں علامت ظہور اس عدل و انصاف کی بشارت ہے جب زمانہ ظلم و جور سے بھر جائے گا۔۔ تعجیل ظہور کی دعا بھی اسی دردناک صورتحال میں اہل نظر کا وہ استغاثہ ہے جس پر غیرت الہی جوش میں آ کر زمانے کو عدل الہی سے فیض یاب کرے گی دجال کا تصور بھی ایسی یک چشم ظالم قوت کا استعارہ ہے جو مادی انکھ سے دنیا کو اپنے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھائے گا معنوی آنکھ سے محروم ہوگا گویا مادہ پرست ظالم طاقت ہی وقت کا ایسا دجال بنے گی جس سے نسل انسانی پناہ مانگے گی ہر پیغمبر نے اپنے وقت کے دجال سے مقابلہ کیا اور عوام الناس کو اس کی عیاری سے باخبر رکھا سفیانی کا خروج بھی شیعہ سنی روایات میں علامت آمد امام قائم ہے سفیانی کسی ایک شخص کا نام نہیں بلکہ صفاتی طور پر لوٹ مار سود خور شیطانی ذرائع رکھنے والا عیار، مکار اور منافق، لوگوں کے اموال لوٹنے والا خدا کی دشمنی میں شیطانی گروہوں کی سربراہی کرنے والا کردار سفیانی ہے اور روایات میں یہ ایک کردار نہیں بلکہ متعدد سفیانی شیطانی افکار کے ساتھ نسل انسانی کا استحصال کریں گے ۔ناقہ صالح کے بچے نے شدت سے فریاد کی اور ظالم امت پر عذاب آگیا بالکل اسی طرح ان سفیانی عیاروں کی چیرہدستیوں کے مقابل تڑپتی انسانیت کا نعرہ استغاثہ نجات دہندہ عالم کے ظہور کے دروا کرے گا۔۔۔۔۔۔۔ امام مہدی کی غیبت اور طول عمری کا مسئلہ ہمیشہ سے موضوع بحث رہا ہے جبکہ طبعی عمر کی حد معین کرنا ممکن نہیں یہاں تک کہ مادی مصنوعات بھی اچھے استعمال سے اپنی مقررہ گارنٹی سے زیادہ عرصہ تک چل جایا کرتی ہیں۔۔ پانچ ہزار ملین سال کی عمر رکھنے والا یہ کرہ ارض رب کی عظیم قدرت کا حسین شہکار ہے جدید ریسرچ کے مطابق جلدی انسان عمر کی سرحدیں توڑنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ زندہ موجودات کولیبارٹریوں میں ہزاروں گنا زیادہ حیات دینے والے سائنسدان جو ایک حقیر سی مکھی کو 900 گنا زیادہ زندگی دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں اس بات پر متفق ہیں کہ عنقریب انسانی زندگی 70 ہزار سال تک بڑھائی جا سکے گی یہ الگ بات کے ایسی طویل العمر ی کا تجربہ انسان کے لیے کتنا تکلیف دہ ہوگا کہ کسی ادیب نے کیا خوب کہا کہ ہم سے حیات کے دو دن گزارنے مشکل ہیں نہ جانے خضر اتنی مدت سےکس طرح بار حیات اٹھائے پھرتے ہیں ماہرین نفسیات بھی متفق ہیں کہ تعمیری افکار سچے عقائد اور صحت مند فکر انسان کی زندگی میں غیر معمولی اضافہ کر سکتی ہے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ غذاؤں کے موثر استعمال اور دیگر لوازمات کے ذریعے سائنس جلدی بڑھاپے کو شکست دے دے گی ان تمام حقائق کی روشنی میں طبعی عمر کا تعین ایک جھوٹا افسانہ اور تخیلاتی تاویل ہے جسے ہماری سوچ کا حصہ بنا دیا گیا ہے استوائی علاقوں میں ایسے درخت پائے جاتے ہیں جن کی عمر جاودانی ہے ان کی جڑیں اور کونپلیں مسلسل نمو پاتی ہیں یہ درخت زمانہ اول سے اج تک موجود ہیں۔۔ ان تمام مادی حقائق کے باوجود خدا اس بات پر قادر ہے کہ وہ اپنے خاص بندوں کو کسی کار خاص کی مصلحت کے تحت جاودانہ زندگی عطا کرے حضرت عیسی اور حضرت خضر اس کی بہترین مثال ہیں۔۔۔۔۔ وہ مریض جو اپنے معالج کی موجودگی سے بے خبر ہو ۔۔طالب علم جو اپنے استاد سے ناواقف ہو ۔۔وہ پیاسا جو کنویں کی موجودگی سے لاعلم ہو کیوں کر ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟؟ وعدہ الہی کی سچائی پر یقین اور نور ولایت کی طلب کی شدت ہی تشنگان ہدایت کو منجی عالم کی معرفت عطا کر سکتی ہے جس طرح رسول اعظم ص نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھے مبعوث کیا لوگ اس کی قیادت اور پیشوائی کے نور سے ایسے مستفید ہوں گے جیسے بادلوں کی اڑ میں چھپا سورج اپنی برکتیں تقسیم کرتا ہے امام قائم کا وجود اس بابرکت ثمر آور اورپاکیزہ درخت کی مانند ہے جسے مالی برقرار رکھنے کے لیے پانی دیتا ہے جبکہ اس کے گرد بے شمار بے فائدہ گھاس اسی کے صدقے میں پانی سے سیراب ہو کر زندہ رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہٹ جائیں گر امام زماں درمیان سے لاکھوں بلائیں ٹوٹ پڑیں آسمان سے میدان جنگ میں کمانڈر کی موجودگی کا ضامن جھنڈا ہوا کرتا ہے جسے دیکھ کر سپاہی کا خون گرم رہتا ہے جب تک کمانڈر کی موجودگی کا احساس رہے مجھے سپاہی کاحوصلہ تازہ دم رہتا ہے اور پھر تمام اسلحہ ساز و سامان اور افرادی قوت کے باوجود کمانڈر کی شہادت ساری فوج کےحوصلے پست کر دیتی ہے اور لشکر کاشیرازہ بکھر جاتا ہے بالکل ایسے ہی صاحبان ایمان خود کو لاوارث نہیں بلکہ الہی محافظ کی موجودگی کے یقین کے ساتھ قدم آگے بڑھاتے ہیں ۔۔اصلاح نفس کرتے سچے عاشق جو انتظار کے تعمیری مفہوم سے خوب آگاہ ہیں۔۔ امام جعفر صادق کی فرمان کی روشنی میں کہ ،،ہمارے قائم کے قیام کے بعد زمین سورج کی روشنی سے بے نیاز ہو جائے گی،، روشنی اور انرجی کے بے کراں سرچشمےصنعتی ترقی میں سورج کی روشنی کے مقابل کھڑے ہوں گے راتیں دنوں کا منظر پیش کریں گی ایک اور حدیث میں ہے کہ تمام دنیا ہمارے قائم کے لیے ھتھیلی کی مانند ہوگی اس وقت انسان سائنسی ترقی اس مقام پر ہے جہاں نصب شدہ سیٹلائٹ کلائی پر بندھی گھڑی کی سوئیاں تک دکھا سکتے ہیں ایسا مواصلاتی نظام ایک عالمگیر حکومت کے تمام امور کو چشم زدن میں تمام عالم تک پہنچا سکے گا پلک جھپکنے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پہنچنے کی علامت بھی اس وقت سائنسی ترقی میں سامنے ا چکی ہے جہاں دنیا مواصلاتی رابطوں میں(global village)گلوبل ولج بن چکی ہے ایک اور حدیث میں علامت بیان کی گئی کہ مہدی سحاب پر سوار ہوں گے جو زمین و آسمان کے تمام طبقوں کی طرف سفر کرے گا گویا خلائی سواریاں اور ہوائی جہاز اس وقت ماضی کی محیر العقول علامتوں کے ثبوت بن کر اس علامت سےپردہ اٹھا رہے ہیں۔۔۔۔ ظہور مہدی کا ایک ثمر وحدت ادیان کی صورت میں سامنے ائے گا امام جعفر صادق فرماتے ہیں ،، مفضل!! ادیان کے تمام اختلافات ختم ہو جائیں گے اور تمام ادیان ایک دین میں بدل جائیں گے امام قائم رنگ برنگی زبانوں ، قوموں نسلوں اور تہذیبوں کو وحدت کے دامن میں سمو کر ایسا متحد اور منظم معاشرہ ترتیب دیں گے جہاں تمام عالم انسانیت یک زبان یک دل اور یک فکر ہو جائے گا انجیل تورات زبور اور قرآن اپنے خالص اور حقیقی نور ہدایت کے ساتھ لبھائے قائم پر رواں ہوں گے تحریف شدہ عقائد اپنی موت آپ مر جائیں گے امام ہدایت الہی کلام کو اصلی قالب میں پیش فرما کر جہان موجود کو وحدت دین کا تحفہ عطا کریں گے معطل شدہ قوانین الہی اپنی تمام تر نورانیت کے ساتھ سارے عالم کے انسانوں کو تزکیہ نفس سے ہمکنار کریں گے اور دنیا کے سارے انسان اس گہوارہ عدل و عشق کے بحر الہی سے سیراب ہوں گے دین فقط اسلام ہوگا اور تمام نسل آدم ہم زبان ہم فکر اور ہم دم ہوگی تھکی ہوئی لہو تھوکتی انسانیت بالاخر سکون و اطمینان کے چشمہ کوثر پہ پہنچ کر اپنے فطری خواب کی تعبیر سے ہم اغوش ہوگی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha